أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، قَالَ: اقْتُلُوهُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ حِينَ فَتَحَهَا غَيْرَ مُحْرِمٍ وَلِذَلِكَ دَخَلَ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّهُ حِينَ أَحْرَمَ مِنْ حُنَيْنٍ، قَالَ: هَذِهِ الْعُمْرَةُ لِدُخُولِنَا مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ يَعْنِي يَوْمَ الْفَتْحِ، فَكَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا: مَنْ دَخَلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ، فَلا بُدَّ لَهُ مِنْ أَنْ يَخْرُجَ فَيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، أَوْ بِحَجَّةٍ لِدُخُولِهِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک پر خود تھا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اتا را تو ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آکر دریافت کیا کہ ابن خطل بیت اللہ کے پردوں کے ساتھ لٹکنے والا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو قتل کردو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہوئے تھے۔ اسی لیے داخلہ کے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک پر خود تھا۔ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ جب نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین سے احرام باندھا تو فرمایا یہ مکہ مکرمہ میں بغیر احرام کے داخلے کا عمرہ ہے۔ یعنی فتح مکہ کے دن ہم بلا احرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے۔ پس ہمارے ہاں اسی طرح حکم کہ جو شخص مکہ مکرمہ میں بغیر احرام داخل ہوا اسے ضروری ہے کہ وہ مکہ مکرمہ سے نلک کر حج یا عمرہ کا احرام باندھے، ( تاکہ تعظیم بیت اللہ کا تقاضا پورا ہوسکے) یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا مسلک ہے۔