أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ لَهَا حِينَ أَصْبَحَتْ عِنْدَهُ: «لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ» ، قَالَتْ: ثَلِّثْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ يَنْبَغِي إِنْ سَبَّعَ عِنْدَهَا أَنْ يُسَبِّعَ عِنْدَهُنَّ لا يَزِيدُ لَهَا عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَإِنْ ثَلَّثَ عِنْدَهَا أَنْ يُثَلِّثَ عِنْدَهُنَّ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابوبکر بن حارث نے بیان کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت ام سلمہ (رض) عنہا سے نکاح کیا تو صبح کے وقت ان سے فرمایا۔ میں ایسا نہ کروں گا کہ تم اپنے لوگوں میں ذلیل ہوجاؤ۔ اگر تم پسند کرو تو سات دن تمہارے پاس رہوں گا اور سات سات دن دوسری بیویوں کے پاس رہوں۔ اور اکر تم پسند کرو تو تین دن تمہارے ہاں اور ایک ایک دن ان تمام کے ہاں قیام کروں۔ ام سلمہ (رض) عنہا نے عرض کیا تین دن بہتر ہے۔ (اس روایت کو باب المقام عند الایم والبکر میں امام مالک نے ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : اسی کو ہم اختیار کرنے والے ہیں۔ کہ نئی بیوی کے ہاں سات دن رہے اور دوسری ازواج کے ہاں بھی سات سات دن رہے اور اس نئی بیوی کے لیے ان ایام میں کچھ بھی اضافہ نہ کرے۔ اور اگر اس کے ہاں تین دن قیام کرے تو ان کے ہاں بھی تین تین دن رہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔