أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْوَلِيدَ سَأَلَ الْقَاسِمَ، وَعُرْوَةَ وَكَانَتْ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبِتَّ وَاحِدَةً وَيَتَزَوَّجُ أُخْرَى، فَقَالَ: نَعَمْ، فَارِقِ امْرَأَتَكَ ثَلاثًا وَتَزَوَّجْ، فَقَالَ الْقَاسِمُ فِي مَجَالِسَ مُخْتَلِفَةٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يُعْجِبُنَا أَنْ يَتَزَوَّجَ خَامِسَةً وَإِنْ بَتَّ طَلاقَ إِحْدَاهُنَّ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، لا يُعْجِبُنَا أَنْ يَكُونَ مَاؤُهُ فِي رَحِمِ خَمْسِ نِسْوَةٍ حَرَائِرَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ.
ولد نے عروہ و قاسم سے استفسار کیا کہ میرے گھر میں چار بیویاں ہیں اور میں ایک کو چھوڑنا اور ایک دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں د ان دونوں نے جواب دیا کہ بہتر یہ ہے کہ تم ایک عورت کو تین طلاق دے دو اور جس عورت سے نکاح کرنا چاہتے ہو کرلو۔ قاسم کہنے لگے کہ تین مختلف مجالس میں طلاق دو ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ پانچویں عورت سے نکاح کرے۔ ان میں سے ایک طو طلاق بائنہ دے چکا ہو جب تک کہ اس کی عدت مکمل نہ ہوجائے۔ اس لیے کہ ہمیں یہ پسند نہیں کہ اس کا مادہ منویہ ( بیک وقت) پانچ آزاد عورتوں کے رح میں ہو۔ ( گویا عدت کے بعد اس کو نکاح کرنا چاہیے) یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔