أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ «رَأَيْتُ صَفِيَّةَ ابْنَةَ أَبِي عُبَيْدٍ تَتَوَضَّأُ، وَتَنْزِعُ خِمَارَهَا، ثُمَّ تَمْسَحُ بِرَأْسِهَا» .
قَالَ نَافِعٌ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يُمسَحُ عَلَى الْخِمَارِ وَلا الْعِمَامَةِ، بَلَغَنَا أَنَّ الْمَسْحَ عَلَى الْعِمَامَةِ كَانَ فَتُرِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنِا.
نافع نے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کی بیوی صفیہ بنت ابی عبیدہ (رض) کے متعلق بیان کیا کہ میں نے ان کو دیکھا کہ وہ اپنا دوپٹہ اتار کر سر کا مسح پانی کے ساتھ کرتی تھیں اور نافع ان دنوں چھوٹا بچہ تھا۔ (یہ اثر مؤطا امام مالک میں مسح الرائی و الاذنین میں مذکور ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں پگڑی اور ڑھنی پر مسح نہ کیا جائے۔ ہمیں یہ اطلاع پہنی ہے کہ ابتداء میں عمامہ پر مسح تھا پھر ترک کردیا گیا۔ یہی اما ابوحنیفہ اور ہمارے دیگر فقہاء کا قول ہے۔