أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ: «أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ أَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا، ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ، وَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَنَضَحَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، وَأَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ» , قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ إِلا النَّضْحَ فِي الْعَيْنَيْنِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِوَاجِبٍ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَنَابَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالْعَامَّةِ
عبداللہ بن عمر (رض) جب جنابت سے غسل کرتے تو ابتداء میں دائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اسے دھوتے پھر اپنی شرمگاہ کو دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک صاف کرتے۔ پھر منہ دھوتے اور آنکھوں کے اندر پانی کے چھینٹے مارتے، پھر دایاں ہاتھ پھر پایاں ہاتھ دھوتے، پھر اپنا سر دھوتے پھر غسل کرتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ان تمام باتوں پر ہمارا عمل ہے۔ سوائے آنکھوں میں پانی ڈالنے والے عمل کے اس لیے کہ یہ غسل جنابت میں لازم نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہا اللہ کا قول ہے اور عام علماء بھی یہی کہتے ہیں۔