أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: «إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بِامْرَأَتِهِ، وَأُرْخِيَتِ السُّتُورُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا، وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: إِنْ طَلَّقَهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ لَهَا إِلا نِصْفُ الْمَهْرِ إِلا أَنْ يَطُولَ مُكْثُهَا وَيَتَلَذَّذُ مِنْهَا فَيَجِبُ الصَّدَاقُ
ابن شہاب (رح) حضرت زید بن ثابت (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ آدمی جب اپنی بیوی کے پاس جائے اور پردے لٹکادئیے جائیں یعنی خلوت صحیحہ میسر ہوجائے تو مہر واجب ہوجاتا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اور ہمارے عام فقہاء بھی اسی طرف گئے ہیں۔ البتہ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اس نے اس کے بعد طلاق دے دی تو اس کو نصف مہر ملے گا۔ کامل مہر تب ملے گا جب کہ وہ زیادہ دیر ٹھہرے اور اس سے لذت حاصل کرے۔