أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الشِّغَارِ» ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُنْكِحَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُنْكِحَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَكُونُ الصَّدَاقُ نِكَاحَ امْرَأَةٍ فَإِذَا تَزَوَّجَهَا عَلَى أَنْ يَكُونَ صَدَاقُهَا أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ وَلَهَا صَدَاقُ مِثْلِهَا مِنْ نِسَائِهَا، وَلا وَكْسَ، وَلا شَطَطَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح شغار سے ممانعت فرمائی ۔ شغار کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردے گا اس حال میں کہ ان کے درمیان مہر نہ ہو۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب جامع مالا یحوز من النکاح میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ کسی عورت کا نکاح کسی دوسری عورت کا مہر قرار نہیں پاسکتا۔ اکر وہ اس طرح نکاح کرلے کہ اس کا مہر یہ ہو کا کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس مذکورہ شخص سے کردے گا تو اس صورت میں نکاح جائز ہوجائے گا اور اس کو مہر مثل ادا کرنا ہوگا۔ جتنا اس عورت کے خاندان کی عورتوں کا ہوگا نہ اسمیں کمی کی جائے گی اور نہ اضافہ۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔