أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُمَرَ أُتِيَ بِرَجُلٍ فِي نِكَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا نِكَاحُ السِّرِّ، وَلا نُجِيزُهُ وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لأَنَّ النِّكَاحَ لا يَجُوزُ فِي أَقَلِّ مِنْ شَاهِدَيْنِ وَإِنَّمَا شَهِدَ عَلَى هَذَا الَّذِي رَدَّهُ عُمَرُ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، فَهَذَا نِكَاحُ السِّرِّ لأَنَّ الشَّهَادَةَ لَمْ تَكْمُلْ وَلَوْ كَمُلَتِ الشَّهَادَةُ بِرَجُلَيْنِ، أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ كَانَ نِكَاحًا جَائِزًا، وَإِنْ كَانَ سِرًّا، وَإِنَّمَا يُفْسِدُ نِكَاحَ السِّرِّ أَنْ يَكُونَ بِغَيْرِ شُهُودٍ، فَأَمَّا إِذَا كَمُلَتْ فِيهِ الشَّهَادَةُ فَهُوَ نِكَاحُ الْعَلانِيَةِ وَإِنْ كَانُوا أَسَرُّوهُ
ابو زبیر (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے سامنے ایک شخص کو پیش کیا گیا۔ جس کے نکاح پر ایک مرد اور ایک عورت کے علاوہ کوئی گواہ نہ تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا۔ یہ خفیہ نکاح ہے۔ ہم اسے جائز نہیں سمجھتے۔ اگر میں اس (قانون) کی وضاحت پہلے کرچکا ہوتا تو اس شخص کو سنگسار کرتا۔ اس روایت کو باب جامع ما لا یجوز من النکاح میں امام مالک (رح) نے ذکر فرمایا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو مختار قرار دیتے ہیں کیونکہ دو سے کم گواہوں سے نکاح نہیں ہوتا۔ جس نکاح کو حضرت عمر (رض) نے رد کیا اس میں ایک مرد اور ایک عورت گواہ ہے۔ لہٰذا یہ نکاح خفیہ تھا۔ کیونکہ اس کی گواہی مکمل نہ تھی۔ اگر گواہی دو مردوں سے یا ایک مرد اور دو عورتوں سے مکمل ہوتی تو پھر یہ نکاح جائز ہوتا خواہ مخفی طور پر کیا ہوتا ۔ اس لیے کہ خفیہ نکاح کی یہی تفسیر گئی ہے کہ وہ گواہوں کے بغیر ہو۔ جب نکاح میں گواہی کامل ہوجائے تو وہ نکاح علانیہ شمار ہوگا۔ خواہ وہ اس کو مخفی کریں۔