أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ عُثْمَانَ عَنِ الأُخْتَيْنِ مِمَّا مَلَكَتِ الْيَمِينُ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ: «أَحلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، مَا كُنْتُ لِأَصْنَعَ ذَلِكَ» ، ثُمَّ خَرَجَ فَلَقِيَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: لَوْ كَانَ لِي مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ، ثُمَّ أُتِيتُ بِأَحَدٍ فَعَلَ ذَلِكَ جَعَلْتُهُ نَكَالا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أُرَاهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ لا يَنْبَغِي أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ ابْنَتِهَا، وَلا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَأُخْتِهَا فِي مِلْكِ الْيَمِينِ، قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: مَا حَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ الْحَرَائِرِ شَيْئًا إِلا وَقَدْ حَرَّمَ مِنَ الإِمَاءِ مِثْلَهُ إِلا أَنْ يَجْمَعَهُنَّ رَجُلٌ، يَعْنِي بِذَلِكَ أَنَّهُ يَجْمَعُ مَا شَاءَ مِنَ الإِمَاءِ، وَلا يَحِلُّ لَهُ فَوْقَ أَرْبَعِ حَرَائِرَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى
قبیصہ بن ذویب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) سے دو ملک یمین بہنوں کے متلق استفسار کیا کیا۔ انھوں جواب دیا کہ ایک آیت نے انھیں حلال قرار دیا الا ما مالک ایمانکم اور دوسری آیت و أن تجمعوا ین الاختین سے حرام قرار دیا۔ اس لیے میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ وہ شخص چلا گیا ۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی (رض) سے ملا اور ان سے اس کے متعلق دریافت کیا۔ انھوں نے فرمایا اگر میرے اختیار میں کچھ بھی ہوتا اور میں کسی کو ایسا کرتے دیکھتا تو اسے عبرتناک سزا دیتا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ مراے خیال میں وہ صحابی (رض) حضرت علی (رض) تھے۔ ( ان دونوں روایات کو امام مالک نے باب ما جاء فی کراہیۃ اصابۃ الاختین بملک الیمین میں ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ان تمام امور کو ہم اختیار کرتے ہیں۔ ماں۔ بیتی کا یا دو بہنوں کا ملک یمین میں اجتماع مناسب نہیں۔ عمار بن یاسر (رض) کا ارشاد ہے کہ جو باتیں اللہ تعالیٰ نے آزاد عورتوں کے لیے حرام کی ہیں وہی لونڈیوں کے متعلق حرام کی ہیں۔ سوائے اس کے کہ آدمی جس قدر چاہے لونڈیاں رکھ سکتا ہے۔ مگر آزاد عورتیں چار سے زائد نہیں رکہی جاسکتیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔