أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا فَإِنَّهُ يُضْرَبُ لَهُ أَجَلٌ سَنَةً فَإِنْ مَسَّهَا وَإِلا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنْ مَضَتْ سَنَةٌ وَلَمْ يَمَسَّهَا خُيِّرَتْ فَإِنِ اخْتَارَتْهُ فَهِيَ زَوْجَتُهُ، وَلا خِيَارَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ أَبَدًا، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ، وَإِنْ قَالَ إِنِّي قَدْ مَسِسْتُهَا فِي السَّنَةِ إِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا فَإِنَّهُ يُضْرَبُ لَهُ أَجَلٌ سَنَةً فَإِنْ مَسَّهَا وَإِلا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنْ مَضَتْ سَنَةٌ وَلَمْ يَمَسَّهَا خُيِّرَتْ فَإِنِ اخْتَارَتْهُ فَهِيَ زَوْجَتُهُ، وَلا خِيَارَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ أَبَدًا، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ، وَإِنْ قَالَ إِنِّي قَدْ مَسِسْتُهَا فِي السَّنَةِ إِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا نَظَرَ إِلَيْهَا النِّسَاءُ، فَإِنْ قُلْنَ هِيَ بِكْرٌ خُيِّرَتْ بَعْدَ مَا تُحَلَّفُ بِاللَّهِ مَا مَسَّهَا وَإِنْ قُلْنَ هِيَ ثَيِّبٌ، فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ لَقَدْ مَسِسْتُهَا وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
ابن شہاب سعید بن المسیب (رح) سے نقل کرتے ہیں جو شخص کسی عورت سے شادی کرے اور اس سے حقوق زوجیت پر قدرت نہ ہو اسے ایک سال مہلت دی جائے گی۔ اگر وہ جماع کرسکا تو فبہا و نعمت ورنہ ان کے ما بین تفریق کردی جائے گی۔ (اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب الرجل الذی لا یمس امراتہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا بہی یہی قول ہے۔ اگر ایک سال گزر جائے اور اس کو جماع کی قدرت حاصل نہ ہو تو اس عورت کو اختیار ہے۔ اگر اس شوہر کو اختیار کرے تو وہ اس کی بیوی ہے اور اس کے بعد عورت کو اختیار نہ رہے گا اور اگر وہ عورت اپنے اختیار کو استعمال کرتی ہے تو اسے طلاق بائنہ ہوجائے گی۔ اگر خاوند دعوی کرے کہ وہ سال کے دوران اس سے مباشرت کرچکا ہے۔ اگر وہ عورت ثیبہ ثابت ہو تو خاوند کا دعوی قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ اور اکر وہ باکرہ ہی ہے تو عورتیں اس کو ملاحظہ کریں گی۔ اکر وہ اس کے باکرہ ہونے کی گواہی دیں تو اسے اختیار دیا جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہے کہ اس کے خاوند نے اس سے جماع نہیں کیا ہے۔ اور اکر عورتیں اس کو ثیبہ ہونے کا فیصلہ دیتی ہیں تو شوہر کو اللہ کی قسم دے کر کہنا ہوگا کہ اس نے اس عورت سے جماع کیا ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔