أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا مُجَبَّرٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهِ جُنُونٌ، أَوْ ضُرٌّ فَإِنَّهَا تُخَيَّرُ إِنْ شَاءَتْ قَرَّتْ وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا كَانَ أَمْرًا لا يُحْتَمَلُ خُيِّرَتْ، فَإِنْ شَاءَتْ قَرَّتْ، وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْ، وَإِلا لا خِيَارَ لَهَا إِلا فِي الْعِنِّينِ وَالْمَجْبُوبِ.
مجر نے سعید بن المسیب سے نقل کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے اور وہ شخص دیوانہ ہو یا اسے کوئی مرض ہو تو تو عورت کو اختیار رہے کہ خواہ وہ اس نکاح کو قائم رکھے یا جدائی اختیار کرے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اگر ایسی بیماری ہے کہ اس کے ساتھ رہنا ممکن نہیں تو عورت کو اختیار حاصل ہوگا خواہ نکاح کو قائم رکھے اور خواہ جدائی اختیار کرے۔ ورنہ نامرد اور حصی کے سوا عورت کو اختیار کی کو سی صورت نہیں۔