أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَذَاتُ الأَبِ وَغَيْرِ الأَبِ فِي ذَلِكَ سَوَاءٌ
نافع بن جبیر نے ابن عباس (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ثیبہ اپنے ولی کی بنسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے۔ اور باکرہ سے اس کی ذات کے متعلق اجازت لی جائے گی۔ اس کی خاموشی اجازت ہے۔ اس روایت کو امام مالک نے باب استیذان البکر میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔ اس سلسلہ میں باپ والی اور بغیر باپ والی ہر دو برابر ہیں۔