hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 541

.

موطأ الامام محمد

541
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا رَجُلٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «لا يَصْلُحُ لامْرَأَةٍ أَنْ تُنْكَحَ إِلا بِإِذْنِ وَلِيِّهَا، أَوْ ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، أَوِ السُّلْطَانِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ، فَإِنْ تَشَاجَرَتْ هِيَ وَالْوَلِيُّ فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ، فَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ، فَقَالَ: إِذَا وَضَعَتْ نَفْسَهَا فِي كَفَاءَةٍ وَلَمْ تُقَصِّرْ فِي نَفْسِهَا فِي صَدَاقٍ، فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ، وَمِنْ حُجَّتِهِ قَوْلُ عُمَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: أَوْ ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا، إِنَّهُ لَيْسَ بِوَلِيٍّ، وَقَدْ أَجَازَ نِكَاحَهُ لأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ لا تُقَصِّرَ بِنَفْسِهَا فَإِذَا فَعَلَتْ هِيَ ذَلِكَ جَازَ
سعید بن المسیب (رح) نے حضرت عمر (رض) سے نقل کیا کہ کسی عورت کا نکاح اس کے ولی یا اس کے خاندان کے کسی صاحب رائے یا بادشاہ کی اجازت کے بغیر درست نہیں۔ ( اس روایت کو با استیذان البکر میں امام مالک نے ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ول کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اگر اس کے اور ولی کے درمیان اختلاف ہو تو باشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا جب کوئی عورت کفر میں شادی کرے اور مہر مثل میں کمی نہ ہو۔ تو نکاح جائز ہے۔ اس سلسلہ میں ان کی دلیل حضرت عمر (رض) کا یہ ارشاد ہے او ذی الرأی من اہلہا حالانکہ وہ ولی نہیں لیکن اس کے نکاح جائز قرار دیا گیا ۔ اس لیے کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ عورت بذات خود مہر میں کمی نہ کرے۔ جب اس عورت نے کردی تو اس سے نکاح تیرے لیے جائز ہوا۔