أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ بِنْتًا لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأُمُّهَا ابْنَةُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ كَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَمَاتَ، وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا، فَقَامَتْ أُمُّهَا تَطْلُبُ صَدَاقَهَا؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ وَلَوْ كَانَ لَهَا صَدَاقٌ لَمْ نُمْسِكْهُ وَلَمْ نَظْلِمْهَا، وَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَ ذَلِكَ فَجَعَلُوا بَيْنَهُمْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَضَى أَنْ لا صَدَاقَ لَهَا، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِهَذَا.
نافع بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن عمر (رض) کی بیٹی جس کی والدہ زیدہ بن خطاب کی بیٹی تھی وہ عبداللہ بن عمر کے بیٹے کے نکاح میں آئیں اور فوت ہوگئیں نہ ان سے صحبت ہوئی اور نہ مہر مقرر ہوا۔ ان کی والدہ نے مہر کا مطالبہ کیا تو ابن عمر (رض) نی کہا سک حق مہر کا استحقاق نہیں۔ اگر ہوتا ہو ہم نہ روکتے اور ہم زیادتی نہیں کرتے۔ اس عورت نے ہی بات قبول کرنے سے انکار کردیا اور انھوں نے زید بن ثابت کو ثالث مقرر کیا۔ انھوں فیصلہ کیا کہ اس حا حق مہر نہیں البتہ اسے وراثت میں حصہ ملے گا۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی الصداق والحیاء میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اس کو اختیار نہیں کرتے ہیں اس کی دلیل درج ذیل روایت ہے۔