أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّ رَجُلا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: لَهَا صَدَاقُ مِثْلِهَا مِنْ نِسَائِهَا، لا وَكْسَ، وَلا شَطَطَ "، فَلَمَّا قَضَى قَالَ: فَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي، وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: بَلَغَنَا أَنَّهُ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَيْتَ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ الأَشْجَعِيَّةِ، قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ فَرْحَةً مَا فَرِحَ قَبْلَهَا مِثْلَهَا لِمُوَافَقَةِ قَوْلِهِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ: لا يَكُونُ مِيرَاثٌ حَتَّى يَكُونَ قَبْلَهُ صَدَاقٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے کسی سے شادی کی اور کوئی مہر مقرر نہ کیا اور وہ عورت مباشرت سے پہلے ہی فوت ہوگئی تو اس کے متعلق ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اس عورت کو بلا کم وکاست مہر مثل کا حق حاصل ہے جب یہ فیصلہ کیا تو فرمایا اکر یہ فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ طی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہے تو شیطان کی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسوۃ ل غلط فیصلے سے بری الذمہ ہیں۔ ان کی مجلس میں سے ایک شخص نے کہا ہمیں اطلاع پہنچی ہے کہ وہ معقل بن سنان اشجعی تھے اور وہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے تھے۔ کہ اے ابن ا مسعود تم نے اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بروع بنت واشق اشجعی کے متعلق فرمایا تھا۔ ابراہہیم کہتے ہیں کہ ابن مسعود اس بات پر اس قدر خوش ہوئے کہ اس سے پہلے کبہی اتنے خوش نہ ہوئے تھید اس لیے کہ ان کا فیصلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موافق ہو کیا اور مسروق بن اجدع کہتے ہیں کہ میراث اس وقت نہ ہوگی جب تک مہر نہ ہو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔