hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 544

.

موطأ الامام محمد

544
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَا، أَنَّ ابْنَةَ طَلْحَةِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ كَانَتْ تَحْتَ رُشَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، فَطَلَّقَهَا، فَنَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا أَبَا سَعِيدِ بْنَ مُنَبِّهٍ، أَوْ أَبَا الْجُلاسِ بْنَ مُنَيَّةٍ فَضَرَبَهَا عُمَرُ، وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالْمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ عُمَرُ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ فِي عِدَّتِهَا، وَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَّجَهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، وَاعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنَ الأَوَّلِ، ثُمَّ كَانَ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنَ الآخِرِ ثُمَّ لَمْ يَنْكِحْهَا أَبَدًا» ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، قَالَ مُحَمَّدٌ: بَلَغَنَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَجَعَ عَنْ هَذَا الْقَوْلِ إِلَى قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
سعید بن المسیب اور سلیمان بن یسار نے بیان کیا کہ طلحہ بن عبداللہ کی بیٹی رشید ثقفی کے نکاح میں تھیں۔ اس نے انھیں طلاق دے دی تو عدت کے دوران ابو سعید بن منبہ یا ابو الجلاس بن منبہ نے اس سے نکاح کرلیاد حضرت عمر (رض) نے اس کو اور اس کے خاوند کو بطور سزا درے لگائے اور ان کے درمیان تفریق کرادی۔ اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا جس عورت نے اپنی عدت کے اندر نکاح کرلیاد اگر اس کے شوہر نے اس سے مباشرت نہ کی ہو تو ان دونوں کو جدا کردیا جائے اور عورت اپنے پہلے شوہر کی عدت پوری کرلے۔ اس کے بعد دوسرا شوہر عام لوگوں کی طرح منگنی کا پیغام بھیجے گا اگر دوسرے شوہر نے مباشرت کرلی ہو تو ان کو جدا کردیا جائے۔ پھر عورت اپنے پہلے شوہر کی عدت پوری کرے۔ پھر دوسرے شوہر کی عدت پوری کرے۔ لیکن دوسرے شوہر سے کبھی نکاح نہ کرید سعدی بن المسیب کہتے ہیں اس عورت کو مہر ملے گا۔ کیونکہ اس شخص نے اس کی شرمگاح کو حلال سمجھا۔ ( اس روایت کو باب جامع ما لا یجوز من النکاح میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) کے قول کی طرف رجوع کرلیاد جو درج ذیل ہے۔