أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: «لا تَبِيتُ الْمَبْتُوتَةُ، وَلا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا إِلا فِي بَيْتِ زَوْجِهَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، أَمَّا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا فَإِنَّهَا تَخْرُجُ بِالنَّهَارِ فِي حَوَائِجِهَا، وَلا تَبِيتُ إِلا فِي بَيْتِهَا، وَأَمَّا الْمُطَلَّقَةُ مَبْتُوتَةً كَانَتْ، أَوْ غَيْرَ مَبْتُوتَةٍ، فَلا تَخْرُجُ لَيْلا، وَلا نَهَارًا مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب عورت طلاق ہوجائے یا سا سکا خامند فوت ہوجائے تو وہ عدت مکمل کرنے تک اپنے شوہر کے گھر میں ہی رات بسر کرے۔ (اس اثر کو امام مالک (رح) باب ماقم المتوفی عنہا زوجہا فی بیتہا حتی تحل میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں البتہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ مجبوری کی صورت میں اپنی ضروریات کے لیے دن میں باہر نکل سکتی ہے۔ مکر رات اپنے خاوند ہی کے گھر میں گزارنا ہوگی۔ رہی وہ عورت جس کو طلاق بائنہ ہوچکی یا غیر بائنہ وہ جب تک عدت میں ہے۔ وہ اپنے خاوند کے گھر سے نہ رات کو باہر نکل سکتی ہے یاور نہ دن کود یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔