أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ فِي أَنْ يَنْكِحَ فَإِنَّهُ لا يَجُوزُ لامْرَأَتِهِ طَلاقٌ إِلا أَنْ يُطَلِّقَهَا الْعَبْدُ، فَأَمَّا أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ أَمَةَ غُلامِهِ، أَوْ أَمَةَ وَلِيدَتِهِ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے کہ جس شخص نے اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دی تو اس کی بیوی کو طلاق دینے کا حق ( بھی غلام کو تفویض ہوگیا) صرف وہ غلام ہی اس کو طلاق دے سکتا ہے۔ البتہ وہ شخص اپنے غلام کی لونڈی یا اپنی لونڈی کی لونڈی کو لے لے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔ (کیونکہ اس کی ملک اس کی اپنی ملک ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔