hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 560

.

موطأ الامام محمد

560
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدًا لِبَعْضِ ثَقِيفٍ جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: أَنَّ سَيِّدِي أَنْكَحَنِي جَارِيَتَهُ، فُلانَةً، وَكَانَ عُمَرُ يَعْرِفُ الْجَارِيَةَ، وَهُوَ يَطَؤُهَا فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ جَارِيَتُكَ؟ قَالَ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: هَلْ تَطَؤُهَا؟ فَأَشَارَ إِلَى بَعْضِ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: لا، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللَّهِ لَوِ اعْتَرَفَتْ لَجَعَلْتُكَ نَكَالا "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي إِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ عَبْدَهُ أَنْ يَطَأَهَا لأَنَّ الطَّلاقَ وَالْفُرْقَةَ بِيَدِ الْعَبْدِ إِذَا زَوَّجَهُ مَوْلاهُ، وَلَيْسَ لِمَوْلاهُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا بَعْدَ أَنْ زَوَّجَهَا فَإِنْ وَطِئَهَا يُنْدَمُ إِلَيْهِ فِي ذَلِكَ، فَإِنْ عَادَ أَدَّبَهُ الإِمَامُ عَلَى قَدْرِ مَا يَرَى مِنَ الْحَبْسِ وَالضَّرْبِ، وَلا يَبْلُغَ بِذَلِكَ أَرْبَعِينَ سَوْطًا
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا کہ بنو ثقیف قبیلہ کا ایک غلام حضرت فاروق اعظم (رض) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا میرے آقا نے اپنی فلاں کنیز سے میرا نکاح کردیا ( فاروق اعظم (رض) اس لونڈی کو ذاتی طور پر جانتے تھے) اور اب وہ خود بھی اس سے مباشرت کرتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس متعلقہ آدمی کو بلا بھیجا وہ حاضر ہوا تو اس سے دریافت کیا تمہاری لونڈی ( فلانہ) کہاں ہے ؟ اس نے بتلایا کہ وہ میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا کیا تم اس سے مباشرت کرتے ہو ؟ حضرت عمر (رض) نے بعض اہل مجلس نے اس کو اشارہ کیا تو اس آدمی نے کہا نہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر تو اعتراف کرتا تو میں تجھے عبرتناک سزا دیتا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب کوئی شخص اپنی لونڈی اپنے کسی غلام کے نکاح میں دے دے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے مباشرت کرے۔ کیونکہ جب آقا نے اس سے اپنی رضا مندی سے نکاح کردیا ہے تو اسے طلاق یا جدائی اختیار ( غلام کو تفویض کردیا ہے اب) غلام اس کو طلاق دے سکتا ہے۔ لونڈی کو اس کے نکاح میں دینے کے بعد آقا کو انھیں جدا کرنے ( طلاق دینے) کا اختیار باقی نہیں رہتا۔ اگر وہ اس سے مباشرت کرے گا تو اس بارے میں اسے ملامت کی جائے گی۔ اگر وہ باز نہ آئے اور اس کا اعادہ کرے تو امام وقت جس قدر چاہے اسے مارپیت یا قید کی سزا دے۔ سب کچھ روا ہے البتہ یہ سزا چالیس کوڑوں سے زیادہ نہ ہوگی۔