hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 561

.

موطأ الامام محمد

561
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، «أَنَّ مَوْلاةً لِصَفِيَّةَ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا، فَلَمْ يُنْكِرْهُ ابْنُ عُمَرَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: مَا اخْتَلَعَتْ بِهِ امْرَأَةٌ مِنْ زَوْجِهَا فَهُوَ جَائِزٌ فِي الْقَضَاءِ، وَمَا نُحِبُّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا، وَإِنْ جَاءَ النُّشُوزُ مِنْ قِبَلِهَا، فَأَمَّا إِذَا جَاءَ النُّشُوزُ مِنْ قِبَلِهِ لَمْ نُحِبَّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا قَلِيلا وَلا كَثِيرًا، وَإِنْ أَخَذَ فَهُوَ جَائِزٌ فِي الْقَضَاءِ، وَهُوَ مَكْرُوهٌ لَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ صفیہ (رض) عنہا کی آزاد کردہ لونڈی نے اپنی تمام اشیاء دے کر اپنے خاوند سے خلع حاصل کرلیا۔ تو عبداللہ بن عمر (رض) نے اس بات کو ناپسند نہ (بلکہ رضامندی کا اظہار فرمایا) اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی الخلع میں ذکر کیا ہے۔
قول محمد (رح) ہے : کہ عورت اپنے خاوند سے جس چیز پر بہی خلع کرے فتوی و قضاء کے لحاظ سے یہ جائز ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ بات پسندیدہ نہیں کہ خاوند اپنے مہر کی مقدار سے زیادہ رقم لے۔ اگرچہ زیادتی اور اختلاف کی ابتداء عورت کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔ (یہ خلاف مروت ہے) اور اگر اختلاف مرد ہی طرف سے ہو تو ہم پسند نہیں کرتے کہ وہ اس مقدار مہر سے تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی لے ۔ البتہ بلحاظ فتوی لینا درست ہے۔ لیکن بندے اور اللہ تعالیٰ (حقوق اللہ) کے لحاظ سے مکروہ ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔