أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُمْهَانَ مَوْلَى الأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ الأَسْلَمِيَّةِ، أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ، ثُمَّ أَتَيَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: «هِيَ تَطْلِيقَةٌ إِلا أَنْ تَكُونَ سَمَّتْ شَيْئًا فَهُوَ عَلَى مَا سَمَّتْ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ إِلا أَنْ يَكُونَ سَمَّى ثَلاثًا، أَوْ نَوَاهَا فَيَكُونُ ثَلاثًا
اسلمیین کے غلام جمہان (رح) نے بیان کیا کہ ام بکر اسلمیہ (رض) عنہا نے اپنے شوہر عبداللہ بن اسید (رض) عنے خلع حاصل کرلیا۔ پھر دونوں حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں آئے تاکہ اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کریں۔ آپ نے فرمایا یہ ایک طلاق ہے۔ مگر یہ کہ وہ عورت اگر دو یا تین کا نام لے تو اتنی تعداد میں ہوجائیں گی۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ خلع طلاق بائن ہے۔ اگر تین کا نام لے یا تین کی نیت کرے تو تین ہی واقع ہوجائیں گی۔