أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا مُجَبِّرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: إِذَا نَكَحْتُ، فُلانَةً فَهِيَ طَالِقٌ، فَهِيَ طَالِقٌ، فَهِيَ كَذَلِكَ إِذَا نَكَحَهَا، وَإِذَا كَانَ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً، أَوِ اثْنَتَيْنِ، أَوْ ثَلاثًا فَهُوَ كَمَا قَالَ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
مجبر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص کہے ” اگر میں فلانہ عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ تو وہ جب بہی اس سے نکاح کرے گا ۔ اس کو وہی طلاقیں واقع ہوجائیں گی جتنی طلاقوں کا اس نے ارادہ کیا تھا۔ ایک یا دو یا تین میں جس قدر اس نے کہی تھیں اتنی ہی واقع ہوجائیں گی۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔