أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ": إِنِّي قُلْتُ: إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلانَةً فَهِيَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، قَالَ: إِنْ تَزَوَّجْتَهَا فَلا تَقْرَبْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ يَكُونُ مُظَاهِرًا مِنْهَا إِذَا تَزَوَّجَهَا فَلا يَقْرَبْهَا حَتَّى يُكَفِّرَ
قاسم بن محمد (رح) کہتے ہیں کہ عمر فاروق (رض) سے ایک آدمی نے مسئلہ دریافت کیا کہ میں نے اس طرح کہا ہے اکر میں فلاں عورت سے شادی کروں تو وہ میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہے۔ تو حضرت عمر (رض) نے جوابا فرمایا اکر تم نے اس سے نکاح کرلیا تو جب تک کفارہ ادا نہ کروگے اس کے قریب نہیں جاسکتے ہو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے کہ اگر اس سے شادی کرلی تو گویا اس سے ظہار واقع ہوگیا۔ وہ جب تک کفارہ ظہار ادا نہ کردے اس وقت تک اس عورت سے مجامعت نہیں کرسکتا۔