hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 566

.

موطأ الامام محمد

566
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَهُ، فَأَتَاهُ بَعْضُ بَنِي أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ لَهُ: «مَا شَأْنُكَ؟» ، فَقَالَ: مَلَّكْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا بِيَدِهَا فَفَارقَتْنِي، فَقَالَ لَهُ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» ، قَالَ: الْقَدَرُ، قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: «ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَمْلَكُ بِهَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا عِنْدَنَا عَلَى مَا نَوَى الزَّوْجُ فَإِنْ نَوَى وَاحِدَةً فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ، وَهُوَ خَاطِبٌ مِنَ الْخُطَّابِ، وَإِنْ نَوَى ثَلاثًا فَثَلاثٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا , وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ میں زید بن ثابت کے پاس بیٹھا تھا۔ اس وقت ابی عتیق کا ایک بیٹا يیا اس کی آنکھوں سے آنسو روان تھے ۔ حضرت زید (رض) نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق کا حق دے دیا تھا۔ تو اس نے مجھ سے جدائی اختا ر کرلی ہے۔ حضرت زید بن ثابت (رض) نے فرمایا تمہیں اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا ۔ اس نے جواب دیا تقدیر نے آپ نے فرمایا۔ اگر پسند کرتے ہو تو اس سے رجوعو کرلو۔ کیونکہ یہ ایک طلاق ہے اور تمہیں اس کا رجوع کا حق حاصل ہے اور تم دوسروں کی نسبت اس (عورت) کے زیادہ حقدار ہو۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب ما یجب فیہ تطلیقہ واخذہ من التملیک میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہمارے ہاں یہ شوہر کی نیت پر موقوف ہے۔ اگر وہ ایک طلاق کی نیت کرے تو یہ طلاق بائنہ ہوگی اور اس کی حیثیت ایک پیغام رساں کی سی ہوگی۔ اگر اس نے تین کی نیت کی تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔ حضرت عثمان اور علی مرتضی (رض) نے فرمایا۔ فیصلہ وہ ہے جو وہ عورت کرے۔