أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُا، " أَنَّهَا خَطَبَتْ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قُرَيْبَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ، فَزَوَّجَتْهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالُوا: مَا زَوَّجْنَا إِلا عَائِشَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَجَعَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَمْرَ قُرَيْبَةَ بِيَدِهَا، فَاخْتَارَتْهُ، وَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأَخْتَارَ عَلَيْكَ أَحَدًا، فَقَرَّتْ تَحْتَهُ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلاقًا "
قاسم (رح) نے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ (رض) عنہا نے اپنے بھائی عبد الرحمن بن ابوبکر (رض) کا پیغام قریبہ بنت ابی امیہ کے پاس بھیجا۔ پس اس سے ان کا نکاح ہوگیا۔ اس پر قریبہ کے ورثاء عبد الرحمن سے ناراض ہوگئے اور کہنے لگے ۔ ہم نے سوچنے سمجھنے کے بغیر عائشہ (رض) عنہا کے کہنے پر نکاح کردیا ہے۔ حضرت ام المؤمنین (رض) عنہا نے اپنے بھائی عبد الرحمن (رض) پیغام بھیجا اور اس بات کا ان سے تذکرہ کیا۔ عبد الرحمن (رض) نے قریبہ کو اختیادے دیا کہ خواہ تو میرے پاس رہے اور خواہ تو جدائی اخیتار کرلے۔ قریبہ نے میں تمہارے مقابلے میں کین اختیار نہیں کرتی۔ پس یہ طلاق نہ ہوئی۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب ما لا یبین من التملیک میں ذکر کیا ہے)