أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّهَا زَوَّجَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: وَمِثْلِي يُصْنَعُ بِهِ هَذَا، وَيُفْتَاتُ عَلَيْهِ بِبَنَاتِهِ؟ فَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: فَإِنَّ ذَلِكَ فِي يَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا لِي رَغْبَةٌ عَنْهُ وَلَكِنَّ مِثْلِي لَيْسَ يُفْتَاتُ عَلَيْهِ بِبَنَاتِهِ، وَمَا كُنْتُ لأَرُدَّ أَمْرًا قَضَيْتِهِ، فَقَرَّتِ امْرَأَتُهُ تَحْتَهُ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلاقًا "ٍ
قاسم (رح) کہتے ہیں ام المومنین عائشہ (رض) عنہا نے اپنی بھتیجی حفصہ بنت عبد الرحمن (رض) کا نکاح منذر بن زبیر (رح) کردیا۔ جب کہ عبد الارحمن (رض) شام گئے ہوئے تھے۔ جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا مجھ سے ایسا کیا کیا ہے کہ بیورحں کے سلسلہ میں رائے نہیں لی گئید حضرت عائشہ (رض) عنہا نے منذر بن زبیر (رح) سے گفتگو کی تو منذر نے کہ یہ معاملہ عبد الرحمن کے ہاتھ میں ہے۔ ( وہ جیسے چاہیں فیصلہ فرمادیں میں راضی ہوں) عبد الرحمن کہنے لگے مجھے منذر سے انکار نہیں۔ لیکن مجھ ہی سے ایسا کرنا تھا کہ بیٹیوں کے معاملہ میں مجھ سے رائے نہیں لی گئی۔ لیکن تم جو کرچکی ہو میں اسے رد نہیں کرتا۔ چنانچہ حفصہ منذر کے نکاح میں رہیں اور طلاق نہ ہوئی۔ ( اس روایت کو باب ما لا یبین من التملیک میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)