أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَلَمْ تُفَارِقْهُ وَقَرَّتْ عِنْدَهُ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاقٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاقٍ وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهُوَ عَلَى مَا نَوَى الزَّوْجُ، فَإِنْ نَوَى وَاحِدَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ، وَإِنْ نَوَى ثَلاثًا فَثَلاثٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
سعید بن مسیب (رح) کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے دے اور وہ اس سے جدائی اختیار نہ کرے بلکہ اس کے پاس ٹھہری رہے تو یہ طلاق نہیں ( اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب ما لا یبین من التملیک میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب عورت نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو یہ طلاق نہیں۔ اور اگر عورت نے اپنی ذات کو اختیار کرلیا تو اس صورت میں مرد کی نیت کا اعتبار ہوگا اگر اس نے ایک طلاق کی نیت کی ہوگی تو یہ ایک طلاق بائنہ ہوگی۔ اگر تین کی نیت کی ہوگی تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔