أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ وَلِيدَةٌ، فَأَبَتْ طَلاقَهَا، ثُمَّ اشْتَرَاهَا، أَيَحِلُّ أَنْ يَمَسَّهَا؟ فَقَالَ: «لا يَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابو عبد الرحمن نقل کرتے ہیں کہ زید بن ثابت (رض) نے فرمایا جب کہ ان سے ایک شخص نے دریافت کیا جس شخص کے نکاح میں لونڈی تھی۔ اس نے اسے طلاق مغلظہ دے دی۔ پھر اس لونڈی کو خرید لیا کیا وہ اس لونڈی سے اب مباشرت کرسکتا ہے ؟ انھوں نے جوابا فرمایا۔ اس کے لیے حلاف نہیں ہے کہ وہ اس سے مباشرت کرے جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے۔
قول محمد (رح) یہ ہیگ ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء بھی اسی طرف گئے ہیں۔