أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَبْرَاءَ مَوْلاةً لِبَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، وَكَانَتْ أَمَةً فَأُعْتِقَتْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا حَفْصَةُ، وَقَالَتْ: إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَمَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا، «إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكَ مَا لَمْ يَمَسَّكِ، فَإِذَا مَسَّكِ فَلَيْسَ لَكَ مِنْ أَمْرِكَ شَيْءٌ» ، قَالَتْ: وَفَارَقْتُهُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا عَلِمَتْ أَنَّ لَهَا خِيَارًا، فَأَمْرُهَا بِيَدِهَا مَا دَامَتْ فِي مَجْلِسِهَا مَا لَمْ تَقُمْ مِنْهُ، أَوْ تَأْخُذْ فِي عَمَلٍ آخَرَ، أَوْ يَمَسَّهَا، فَإِذَا كَانَ شَيْءٌ مِنْ هَذَا بَطُلَ خِيَارُهَا، فَأَمَّا إِنْ مَسَّهَا وَلَمْ تَعْلَمْ بِالْعِتْقِ، أَوْ عَلِمَتْ بِهِ وَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارُ فَإِنَّ ذَلِكَ لا يُبْطِلُ خِيَارَهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کعبنی عدی بن کعب کی لونڈی جس کا نام زبراء تھا۔ اس نے بتلایا کہ میں ایک غلام کے نکاح میں تہی اور یہ خود لونڈی تھی۔ ان کے آقانے اسے آزادی دے دی۔ تو حضرت حفصہ (رض) عنہا نے اسے بلا کر فرمایا میں تمہیں ایک اطلاق دیتی ہوں۔ مگر یہ ہپسند نہیں کرتی کہ تم اس سلسلہ میں کچھ اقدام کرود وہ اطلاع یہ ہے جب تک تمہارا شوہر تم سے مباشرت نہ کرے اس وقت تک اختیار تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ مباشرت کرے گا تو تمہارا اختیار ختم ہوجائے گا۔ اس لونڈی نے کہا میں نے اس سے جدائی اختیار کرلی۔ (اس روایت کو باب ما جاء فی الخیام میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ جب لونڈی کو علم ہوجائے کہ اسے خیار حاصل ہو کیا ہے تو اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک وہ اس مجلس میں رہے اور وہاں سے کھڑی نہ ہو یا کسی دوسورے کام میں مشغول نہ ہو یا شوہر نے اس سے مباشرت نہیں کی۔ اگر ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات پیش آجائے تو اس سے حق خیار ختم ہوجاتا ہے۔ اگر شوہر نے اس سے مباشرت کرلی اور اسے آزادی کا علم ہی نہ ہوا یا علم تو ہوا مگر یہ خبر نہ تھی کہ اس کو اخیار حاصل ہے تو ان دونوں صورتوں میں بھی اس کا حق خیار باطل نہ ہوگا۔ یہی امام ابوجنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔