أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ فَاءَ قَبْلَ أَنْ تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَهِيَ امْرَأَتُهُ لَمْ يَذْهَبْ مِنْ طَلاقِهَا شَيْءٌ، فَإِنْ مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرُ قَبْلَ أَنْ يَفِيءَ، فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِالرَّجْعَةِ مَا لَمْ تَنْقَضِ عِدَّتُهَا "، قَالَ: وَكَانَ مَرْوَانُ يَقْضِي بِذَلِكَ.
سعید بن المسیب (رح) فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے ایلاء کرلے (مجامعت نہ کرنے کی قسم اٹھالے) پھر چار ماہ گزرنے سے پہلے اس سے رجوع کرلے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔ اگر رجوع کرنے سے پہلے چارہ ما گزرگئے تو ایک طلاق واقع ہوئی۔ اور وہ رجوع کا زیادہ حقدار ہے۔ جب تک کہ اس کی عدت نہ گزری ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ مروان اسی کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔