hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 579

.

موطأ الامام محمد

579
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَإِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرُ وُقِفَ حَتَّى يُطَلِّقَ، أَوْ يَفِيءَ، وَلا يَقَعُ عَلَيْهَا طَلاقٌ، وَإِنْ مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرُ حَتَّى يُوقَفَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: بَلَغَنَا، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا: إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ يَفِيءَ فَقَدْ بَانَتْ بِتَطْلِيقَةٍ بَائِنَةٍ، وَهُوَ خَاطِبٌ مِنَ الْخُطَّابِ وَكَانُوا لا يَرَوْنَ أَنْ يُوقَفَ بَعْدَ الأَرْبَعَةِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الآيَةِ: {لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [البقرة: 226] ، {وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} [البقرة: 227] ، قَالَ: الْفَيْءُ: الْجِمَاعُ فِي الأَرْبَعَةِ الأَشْهُرِ، وَعَزِيمَةُ الطَّلاقِ: انْقِضَاءُ الأَرْبَعَةِ الأَشْهُرِ، فَإِذَا مَضَتْ بَانَتْ بِتَطْلِيقَةٍ، وَلا يُوقَفُ بَعْدَهَا، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَعْلَمَ بِتَفْسِيرِ الْقُرْآنِ مِنْ غَيْرِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرلے۔ جب چار ماہ گزر جائیں۔ حاکم شوہر کو طلاق دینے یا رجوع کرنے پر مجبور کرلے۔ اگر چار ماہ طلاق دینیی کے بغیر گزر جائیں تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ پس چارہ ما کے اندر شوہر کو حاکم مجبور کرے۔
(امام مالک (رح) نے ان ندونوں آثار کو باب الایلاء میں ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہمیں حضرت عمر، عثمان، ابن مسعود زید بن ثابت (رض) عنہم کی روایت پہنچی ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرلے اور رجوع سے پہلے چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی۔ اور شوہر کی حیثیت اس شخص جیسی ہوگی جو شادی کا پیغام پہنچانے والا ہو۔ یہ حضرات چارہ ماہ کے بعد شوہر کو مجبور کرنا ضرور قرار نہ دیتے تھے۔
ابن عباس (رض) نے للذین یولیون من نساہ م تا غفور رحیم کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ الفیء سے مراد چارہ ماہ کے اندر معاشرت کرلینا ہے۔ اور ان عزموا الطلاق سے چار ماہ گزر جانا مراد ہے۔ جب چار ماہ گزر جائیں تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی اس کے بعد شوہر کو مجبور نہ کیا جائے گا۔ عبداللہ بن عباس (رض) کو تفسیر قرآن کا ملکہ دوسروں سے زیادہ مقدار میں میسر ہوا تھا۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا حناف کا قول ہے۔