أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ «رَجُلا لاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا نَفَى الرَّجُلُ وَلَدَ امْرَأَتِهِ، وَلاعَنَ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، وَلَزِمَ الْوَلَدُ أُمَّهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى
نافع (رح) نے بیان کیا کہ ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعام کیا اور اس کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کا انکار کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی اور بچے کو اس عورت کے حوالہ کردیا۔
(اس روایت کو امام مالک نے باب اللعان میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : اس پر ہمارا عمل ہے جب خاوند اپنی بیوی کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کا انکار کردے اور اس پر زنا کا الزام لگائے تو ان کڑ درمیان تفریق کرادی جائے گی۔ اور وہ لڑکا ماں کے حوالے کردیا جائے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔