hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 587

.

موطأ الامام محمد

587
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لِكُلِّ مُطَلِّقَةٍ مُتْعَةٌ إِلا الَّتِي تُطَلَّقُ، وَقَدْ فُرِضَ لَهَا صَدَاقٌ، وَلَمْ تُمَسَّ فَحَسْبُهَا نِصْفُ مَا فُرِضَ لَهَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَلَيْسَتِ الْمُتْعَةُ الَّتِي يُجْبَرُ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا إِلا مُتْعَةً وَاحِدَةً، هِيَ مُتْعَةُ الَّذِي يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، فَهَذِهِ لَهَا الْمُتْعَةُ وَاجِبَةٌ، يُؤْخَذُ بِهَا فِي الْقَضَاءِ، وَأَدْنَى الْمُتْعَةِ لِبَاسُهَا فِي بَيْتِهَا: الدِّرْعُ وَالْمِلْحَفَةُ وَالْخِمَارُ، وَهُوَ قولُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ
نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا۔ کہ ہر مطلقہ کے لیے متعہ ہے۔ سوائے اس صورت کے کہ جب اس کو طلاق دی گئی ہو اور مہر مقرر کردیا گیا ہو۔ لیکن مباشرت سے قبل طلاق دے دی جائے تو اس صورت میں عورت کو نصف مہر ادا کرنا کافی ہوگا۔ (یہ اثر باب متعۃ الطلاق میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ متعہ ایسی چیز نہیں کہ جس کی ادائیگی پر خاوند کو مجبور کیا جائے۔ سوائے اس متعہ کے کہ جب خاوند اپنی بو ی کو قبل از مباشرت طلاق دے دے اور ہر بہی مقرر نہ ہوا ہو۔ تو اس صورت میں متعہ عدالت کے ذریعہ وصلو کا ہ جائے۔ اور کم از کم متعہ کی مقدار اس کا وہ لباس ہے جو وہ اپنے گھر میں استعمال کرتی ہے۔ اوڑھنی، ایک کرتہ، ایک تہہ بند، امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی مالک ہے۔ اور ہمارے عام فقہاء کا کرام کا رجحان بھی یہی ہے۔