أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا وَهِيَ حَادٌّ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمْ تَكْتَحِلْ حَتَّى كَادَتْ عَيْنَاهَا أَنْ تَرْمَصَا، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ لا يَنْبَغِي أَنْ تَكْتَحِلَ بِكُحْلِ الزِّينَةِ، وَلا تَدَّهِنَ، وَلا تَتَطَيَّبَ، فَأَمَّا الذُّرُورُ وَنَحْوُهُ فَلا بَأْسَ بِهِ، لأَنَّ هَذَا لَيْسَ بِزِينَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
نافع بیان کرتے ہیں کہ صفیہ بنت ابی عبید کی آنکھوں میں تکلیف تہی۔ ور وہ اپنے خاوند عبداللہ بن عمر (رض) کے بعد سوگ کے ایام گزار رہیں تھیں۔ پس انھوں نے سرمہ نہیں لگایا۔ یہاں تک کہ ان کی آنکھیں میل کچیل سے بھر گئیں۔ ( اس روایت کو امام مالک نے باب الاحداد میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہمارا اسی پر عمل ہے۔ عورت کو بطور زینت سرمہ، تیل، خوشبو لگانی جائز نہیں۔ البتہ ذرور نامی دواء لگانا درست ہے۔ کیونکہ وہ زینت کے لیے استعمال نہیں ہوتی۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔