hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 590

.

موطأ الامام محمد

590
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، " أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى مَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ: اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا، فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي، وَقَالَ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ: أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: لا يَضُرُّكَ أَنْ لا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ، قَالَ مَرْوَانُ، إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَنْتَقِلَ مِنْ مَنْزِلِهَا الَّذِي طَلَّقَهَا فِيهِ زَوْجُهَا طَلاقًا بَائِنًا، أَوْ غَيْرَهُ، أَوْ مَاتَ عَنْهَا فِيهِ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
سلیمان بن یسار بیان کرتے تھے کہ یحی بن سعید بن عاص نے عبد الرحمن بن حکم کی بیتی کو طلاق مغلظہ دے دی۔ عبد الرحمن نے بیٹی کو گھر بلایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) عنہا نے مروان کے پاس پیغام بھیجا جو کہ حاکم مدینہ تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اور بیٹی کو اس کے گھر ب بھیج دو ۔ سلیمان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ مروان نے کہا کہ عبد الرحمنان مجھ پر غالب آگیا ہے “ اور قاسم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ کیا تمہیں فاطمہ بنت قیس کی خبر نہیں ( کہ وہ خاوند بیوی کے جھگڑے کے باعث دوران عدت ہی گھر سے نکل آئیں) حضرت عائشہ (رض) عنہا نے فرمایا اگر تم فاطمہ کی بات بیان نہ کرتے تو تمہارا کوئی نقصان نہ تھا۔ مروان نے کہا اگر آپ کے ہاں فاطمہ کے گھر سے نکلنے کا باعث جھگڑا ہے تو یہاں بھی وہی جھگڑا باعث ہے۔
(اس روایت کو امام مالک احمد نے باب عدۃ المرأۃ فی بیتہا اذا طلغت فیہ میں ذکر ہے
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں عورت کو مناسب نہیں ہی کہ وہ اس مکان سے منتقل ہو جس میں اس کے خاوند نے اس کو طلاق دی ہے۔ خواہ طلاق بائنہ ہو یا طلاق مغلظہ یا جس گھر میں وہ خاوند فوت ہوا ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے اکثر فقہاء کا یہی قول ہے۔