hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 599

.

موطأ الامام محمد

599
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ تَحْتَهُ وَلِيدَةٌ فَقَالَ لأَهْلِهَا: شَأْنَكُمْ بِهَا؟ قَالَ الْقَاسِمُ: فَرَأَى النَّاسُ أَنَّهَا تَطْلِيقَةٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا نَوَى الرَّجُلُ بِالْخَلِيَّةِ وَبِالْبَرِيَّةِ ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ فَهِيَ ثَلاثُ تَطْلِيقَاتٍ وَإِذَا أَرَادَ بِهَا وَاحِدَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنٌ، دَخَلَ بِامْرَأَتِهِ، أَوْ لَمْ يَدْخُلْ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
قاسم بن محمد (رح) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک لونڈی تہی اس نے لونڈی کے مالک کو کہا۔ تم جانو اور تمہارا کام جانے۔ لوگوں نے اس کو طلاق سمجھا۔ (اس اثرکو امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی الخلیۃ والبریہ میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ خلیہ اور بریہ کے الفاظ سے تین طلاق طلاق کا ارادہ کرلیا جائے تو تین طلاق واقع ہوجائیں گی۔ جب دو کا ارادہ کرے یا کچھ بھی اردہ نہ کرے تو یہ ایک طلاق بائنہ ہوگی۔ خواہ اپنی بیوی سے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔