أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْخَيَّاطُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِ مِيرَاثِهَا "، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَهَذَا أَكْثَرُ مِنْ تِسْعَةِ أَشْهُرٍ وَثَلاثَةِ أَشْهُرٍ بَعْدَهَا، فَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا، لأَنَّ الِعَدَّةَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أَرْبَعَةِ أَوْجُهٍ لا خَامِسَ لَهَا: لِلْحَامِلِ حَتَّى تَضَعَ وَالَّتِي لَمْ تَبْلُغِ الْحَيْضَةَ ثَلاثَةُ أَشْهُرٍ، وَالَّتِي قَدْ يَئِسَتْ مِنَ الْمَحِيضِ ثَلاثَةُ أَشْهُرٍ، وَالَّتِي تَحِيضُ ثَلاثُ حِيَضٍ، فَهَذَا الَّذِي ذَكَرْتُمْ لَيْسَ بِعِدَّةِ الْحَائِضِ، وَلا غَيْرِهَا
علقمہ بن قیس (رح) نے ابن عمر (رض) سے اس سلسلہ میں دریافت کیا تو انھوں نے اس عورت کی میراث استعمال کرنے کا حکم صادر فرمایا ( جیسا کہ ابن مسعود (رض) نے فرمایا تھا)
قول محمد (رح) یہ ہے : عدت نو ماہ اور اس کے بعد تین ماہ سے زائد ہے۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن عزیز میں عدت کی چار صورتین مذکور ہیں۔ پانچیوں کوئی صورت نہیں۔ نمبر ١ وضع حمل تک۔ نمبر ٢ جو حیض کی عمر کو نہ پہنچی اس کی عدت تین ما۔ نمبر ٣ جو حیض سے مایوسی کی عمر کو پہنچ جائے اس کی عدت تین ماہ ہے۔ نمبر ٤ جس کو حیض آتا ہو اس کی عدت تین حیض ہے۔ اور یہ جو تم نے ذکر کیا ہے یہ نہ حائضہ کی عدت ہے اور نہ غیر حائضہ کی۔