أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: انْقَلَبْتُ مِنَ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَاءَ فَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ، قَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا! وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: الْغُسْلُ أَفْضَلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ، وَفِي هَذَا آثَارٌ كَثِيرَة
سالم اپنے والد عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک صحابی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا۔ جبکہ عمر بنب الخطاب (رض) خطبہ دے رہے تھے۔ حضرت عمر نے کہا یہ آنے کونسا وقت ہے ؟ ( یعنی تم دیر سے کیوں آئے) اس شخص نے کہا اے امیر المؤمنین ! میں بازار سے واپس آیا تو میں اذان سنی، پھر میں نے صرف اتنی دیر لگائی کہ میں وضو کیا۔ حضرت عمر (رض) نے کہا اچھا ! کیا صرف وضو ہی کیا۔ حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو غسل جمعہ کا حکم دیا کرتے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ جمعہ کے دن غسل افضل ہے واجب نہیں اور اس سلسلہ میں بہت سے آثار ہیں (جو اس بات تائید کرتے ہیں)