hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 630

.

موطأ الامام محمد

630
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ ضَحَّى مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُ كَبْشًا فَحِيلا أَقْرَنَ، ثُمَّ أَذْبَحَهُ لَهُ يَوْمَ الأَضْحَى فِي مُصَلَّى النَّاسِ فَفَعَلْتُ، ثُمَّ حُمِلَ إِلَيْهِ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ حِينَ ذُبِحَ كَبْشُهُ، وَكَانَ مَرِيضًا لَمْ يَشْهَدِ الْعِيدَ مَعَ النَّاسِ، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: «لَيْسَ حِلاقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ ضَحَّى إِذَا لَمْ يَحُجَّ» ، وَقَدْ فَعَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ إِلا فِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ، الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ إِذَا كَانَ عَظِيمًا أَجْزَأَ، فِي الْهَدْيِ وَالأُضْحِيَةِ، بِذَلِكَ جَاءَتِ الآثَارُ: الْخَصِيُّ مِنَ الأُضْحِيَةِ يُجْزِئُ مِمَّا يُجْزِئُ مِنْهُ الْفَحْلُ، وَأَمَّا الْحِلاقُ فَنَقُولُ فِيهِ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ لَمْ يَحُجَّ فِي يَوْمِ النَّحْرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا۔ کہ انھوں نے ایک مرتبہ مدینہ شریف میں قربانی کی تو انھوں نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے لئے ایک سینگ والا بکر خرید لاؤں۔ پھر ان کی طرف سے قربانی کے دن عید گاہ میں ذبح کروں۔ میں نے اسی طرح کیا۔ (خرید لایا) پھر قربانی کا جانور ان کی خدمت میں پیش کیا۔ جب ان کا بکر ذبح کیا گیا تو انھوں نے اپنا سر منڈیا۔ وہ بیماری کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ عید گاہ نہ جاسکے۔ ن ٧ اف ٧ ع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) فرماتے تھے کہ قربانی دینے والے پر سر منڈانا واجب نہیں۔ جبکہ اس نے حج نہیں کیا ( حج کے موقعہ پر تو احرام سے نکلنے کے لیے منڈوانا ضروری ہے) عبداللہ بن عمر (رض) نے تبرکا یہاں سر منڈایا ۔ ( اس اثر کو باب ما یستحب من الضحایا میں ذکر کیا گیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اس روایت کو ہم مکمل طور پر اختیار کرتے ہیں۔ البتہ ہمارے ہاں چھ ماہ کا مینڈھا جو بڑا معلوم ہوتا ہو ( سال کے برابر نظر آئے) قربانی میں اس کو ذبح کرنا جائز قرار دیتے ہیں۔ قربانی کے متعلق بہت سے آثار وارد ہیں۔ جس میں فحل جائز ہے۔ اس میں خصی کی قربانی بہی جائز ہے۔ اور سرمنڈوانے کے سلسلہ میں ہم وہی کہتے ہیں جو ابن عمر (رض) نے فرمایا ہے۔ جس نے حج نہیں کیا اس پر قربانی کے دن سرمنڈوانا واجب نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔