أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ، " ذَبَحَ أُضْحِيَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الأَضْحَى، وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِأُضْحِيَةٍ أُخْرَى، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا كَانَ الرَّجُلُ فِي مِصْرٍ يُصَلَّى الْعِيدُ فِيهِ، فَذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الإِمَامُ فَإِنَّمَا هِيَ شَاةُ لَحْمٍ، وَلا يُجْزِئُ مِنَ الأُضْحِيَةِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ فِي مِصْرٍ وَكَانَ فِي بَادِيَةٍ أَوْ نَحْوِهَا مِنَ الْقُرَى النَّائِيَةِ عَنِ الْمِصْرِ فَإِذَا ذَبَحَ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَحِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ أَجْزَأَهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عباد بن تیمخ (رض) سے روایت ہے کہ عویر بن اشقر نے قرانی کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے قربانی کردی۔ اور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ دوبارہ اور قربانی کرے۔ ( اس روایت کو باب النہی عن ذبح الاضحیۃ قبل انصنراف الامام میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص شہر میں ہو جہاں عید کی نماز ہوتی ہے تو امام کے نماز پر ھانے سے پہلے اگر وہ قربانی ذبح کرلے تو گویا وہ ایک بکری کا گوشت ہوگا۔ اگر شہر میں نہ بلکہ جنگل میں ہو یا ایسے گاؤں میں رہتا ہو جو شہر سے دور ہو تو وہ شخص اکر طلوع فجر یا آفتاب کے طلوع کے وقت ذبح کرے گا تو اس کی قربانی جائز ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔