أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ صَيَّادٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: «كُنَّا نُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ يَذْبَحُهَا الرَّجُلُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَارَتْ مُبَاهَاةً» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: كَانَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُحْتَاجًا فَيَذْبَحُ الشَّاةَ الْوَاحِدَةَ يُضَحِّي بِهَا عَنْ نَفْسِهِ، فَيَأْكُلُ وَيُطْعِمُ أَهْلَهُ، فَأَمَّا شَاةٌ وَاحِدَةٌ تُذْبَحُ عَنِ اثْنَيْنِ، أَوْ ثَلاثَةٍ أُضْحِيَةٌ فَهَذَا لا يُجْزِئُ، وَلا يَجُوزُ شَاةٌ إِلا عَنِ الْوَاحِدِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عطاء بن یسار (رح) نے بیان کیا۔ حضرت ابو ایوب انصاری (رض) نے بتلایا کہ ہم ایک بکری کی قربانی کرتے تھے۔ ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے ذبح کرتا تھا۔ پہر لوکوں نے فخر کرنا شروع کردیا۔ اور قربانی فخر بن گئی ( ای اثر کو باب الشرکۃ فی الضحایا میں ذکر کیا گیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اگر غریب ہوتے تھے تو ایک بکری ذبح کرلیتے تھے۔ اور خود کھالیتے تھے۔ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاتے تھے۔ لیکن ایک بکر دو یا تین آدمیوں کی طرف سے قربانی کرنا جائز نہیں۔ ایک بکری کی قربانی ایک شخص کی طرف سے ہی ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔