أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الْبَدَنَةُ وَالْبَقَرَةُ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ فِي الأُضْحِيَةِ وَالْهَدْيِ مُتَفَرِّقِينَ كَانُوا، أَوْ مُجْتَمِعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ وَاحِدٍ، أَوْ غَيْرِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ
ابو زبیر مکی (رح) نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہم نے مقام حدیبیہ میں ایک اونٹ اور ایک گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیے۔
اس اثر کو باب الشرکۃ فی الضحایا میں امام مالک نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اونٹ اور گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے جائز ہے خواہ وہ ایک گھر کے ہوں یا متفرق گھروں کے ہوں یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔