hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 64

.

موطأ الامام محمد

64
Muawtta Imam Muhammad
قَالَ مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ حَمَّادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْغُسْلِ مِنَ الْحِجَامَةِ، وَالْغُسْلِ فِي الْعِيدَيْنِ؟ قَالَ: إِنِ اغْتَسَلْتَ فَحَسَنٌ، وَإِنْ تَرَكْتَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ» ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَيْسَ مِنَ الأُمُورِ الْوَاجِبَةِ، وَإِنَّمَا وَهُوَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ} [البقرة: 282] ، فَمَنْ أَشْهَدَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ تَرَكَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ، وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الأَرْضِ} [الجمعة: 10] ، فَمَنِ انْتَشَرَ فَلا بَأْسَ وَمَنْ جَلَسَ فَلا بَأْسَ. قَالَ حَمَّادٌ: وَلَقَدْ رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ يَأْتِي الْعِيدَيْنِ وَمَا يَغْتَسِلَ.
حماد نے ابراہیم نخعی تابعی (رح) سے نقل کیا کہ میں نے ان سے سوال کیا کہ جمعہ کے دن غسل اور اسی طرح سینگی لگوانے کے بعدغسل اور عیدین کے روز غسل کرنے کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے جواب میں فرمایا گ اگر غسل کرو تو خوب ہے اور اگر چھوڑ دو تو گناہ لازم نہ آئے گا۔ میں نے ان سے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں فرمایا من راح الی الجمعۃ فلیغتسل ۔ کہ جو جمعہ کی طرف جائے وہ غسل کرے) انھوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بالکل یہ بات فرمائی ہے۔ لیکن یہ غسل ان احکام میں سے نہیں جن کا کرنا فرض و واجب ہو۔ وہ صیغہ امر اللہ تعالیٰ کے ارشاد واشہدوا اذا تبایعتم ۔ جب تم باہمی خریدو فروخت کا معاملہ کرو تو گواہ بنا لو) اشہدوا کے امر کی طرح ہے) پس جس نے گواہ بنالئے خوب کیا اور جس نے نہ بنائے اس پر گناہ نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرح ہے فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض۔ کہ جب تم جمعہ کی نماز ادا کرچکو تو زمین میں پھیل جاؤ۔ تو جمعہ کے بعد جو مسحد سے چلا جائے اس پر بھی گناہ نہیں اور جو بیٹھا رہے اس پر بھی کچھ گناہ و تنگی نہیں حماد کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی کو بارہا عیدین کی طرف بغیر غسل کئے جاتے دیکھا۔