hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 651

.

موطأ الامام محمد

651
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ذَكَاةُ مَا كَانَ فِي بَطْنِ الذَّبِيحَةِ ذَكَاةُ أُمِّهِ إِذَا كَانَ قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، وَتَمَّ خَلْقُهُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ إِذَا تَمَّ خَلْقُهُ، فَذَكَاتُهُ فِي ذَكَاةِ أُمِّهِ، فَلا بَأْسَ بِأَكْلِهِ، فَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَكَانَ يَكْرَهُ أَكْلَهُ حَتَّى يَخْرُجَ حَيًّا فَيُذَكَّى، وَكَانَ يَرْوِي، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ: لا تَكُونُ ذَكَاةُ نَفْسٍ ذَكَاةَ نَفْسَيْنِ.
سعید بن المسیب (رح) فرماتے تھے کہ مذبوحہ جانور کے پیٹ کا جو بچہ ہو اس کا ذبح کرنا بعینہ وہی ہے جو اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے۔ جبکہ اس کے بال اگ آئے ہوں اور اس کے اعضاء پورے ہوگئے ہوں۔ ( ان دونوں آثار کو امام مالک باب ما یکرہ من الذبیحۃ فی الذکاۃ میں لائے ہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں۔ جبکہ اس کے اعضاء پورے طور پر تیار ہوچکے ہوں تو اس کی ماں کا ذبح کرنا خود اس کا ذبح کرنا ہے۔ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن امام ابوحنیفہ (رح) اس کے کھانے کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔ البتہ اگر وہ زندہ نکل آئے اس کو ذبح کرلیا جائے تو پھر ان کے کھانے میں کراہت نہیں۔ ابراہیم نخعی رحمہ الہ کا قول یہی ہے کہ ایک کا ذبح کرنا دو ذبح کرنا نہیں ہوسکتا۔