أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَرَادِ؟ فَقَالَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي قَفْعَةً مِنْ جَرَادٍ فَآكُلُ مِنْهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، فَجَرَادٌ ذُكِّيَ كُلُّهُ لا بَأْسَ بِأَكْلِهِ إِنْ أُخِذَ حَيًّا، أَوْ مَيِّتًا، وَهُوَ ذَكِيٌّ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابن عمر (رض) سے ٹڈے دل کے متعلق دریافت کیا گیا۔ تو انھوں نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس ٹڈیوں کا ایک تھیلا ہو اور میں اس میں سے کھاؤں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ٹڈی مذبوحہ جانور کے حکم میں ہے۔ وہ زندہ پکڑی جائے یا مردہ اس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ وہ بہرحال مذبوح شمار ہوگی۔ (جیسا کہ مچھلی) یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔