أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: فِي دِيَةِ الْخَطَأِ عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِهَذَا، وَلَكِنَّا نَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسٌ، عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، أَخْمَاسٌ.
وَإِنَّمَا خَالَفَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي الذُّكُورِ، فَجَعَلَهَا مِنْ بَنِي اللَّبُونِ، وَجَعَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ بَنِي مَخَاضٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ مِثْلُ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ
سلیمان بن یسار کہا کرتے تھے کہ قتل خطاء کی دیت بیس بنت مخاض بیس بنت لبون، بیس ابن لبون، بیس حقے، بیس جذعے ہے۔ دوسرے سال میں داخل ہونے والی اونٹنی کو بنت مخاض، بنت لبون جو تیسرے سال میں داخل ہوجائے، حقہ چوتھے سال میں داخل ہونے والے اونٹنی جو سواری کے قابل ہو۔ جذعہ جس کا پانچواں سال شروع ۔ (اس اثر کو امام مالک (رح) نے باب دیۃ الخطأ فی القتل میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس کو اختیار نہیں کرتے۔ اور عبداللہ بن مسعود کی بات کو اپناتے ہیں۔ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قتل خطاء کی دیت کے پانچ حصے ہیں۔ بیس بنت مخاض، بیس ابن مخاص، بیس بنت لبون، بیس حقے، اور بیس جذعے، سلیمان بن یسار (رح) نے ہم سے مذکر میں اختلاف کیا ہے۔ انھوں نے ابن لبون کہا ہے اور ابن مسعود (رض) نے ابن مخاض فرمایا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ابن مسعود (رض) کے مطابق ہے۔