أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، أَنَّ أَبَا غَطَفَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَرْسَلَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ مَا فِي الضِّرْسِ؟ فَقَالَ: إِنَّ فِيهِ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ، قَالَ: فَرَدَّنِي مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: فَلِمَ تَجْعَلُ مُقَدَّمَ الْفَمِ مِثْلَ الأَضْرَاسِ؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْلا أَنَّكَ لا تَعْتَبِرُ إِلا بِالأَصَابِعِ عَقْلُهَا سَوَاءٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَأْخُذُ، عَقْلُ الأَسْنَانِ سَوَاءٌ، وَعَقْلُ الأَصَابِعِ سَوَاءٌ، فِي كُلِّ إِصْبَعٍ عُشْرٌ مِنَ الدِّيَةِ، وَفِي كُلِّ سِنٍّ نِصْفُ عُشْرٍ مِنَ الدِّيَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابو غطفان (رح) نے بتلایا کہ مروان بن حکم نے مجھے ابن عباس (رض) کی خدمت میں بھیجا کہ ڈاڑھ کی دیت کیا ہے ؟ ابن عباس (رض) نے فرمایا۔ اس کی دیت پانچ اونٹ ہیں۔ مروان نے مجھے ابن عباس (رض) کی طرف دوبارہ بھیجا کہ ڈاڑھ کو دانتوں کے برابر کیوں کرتے ہیں۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا۔ اگر تم دانتوں کو انگلیوں کے برابر قیاس کرتے تو تمہارے لیے کافی ہوتا کیونکہ تمام انگلیوں کی دیت برابر ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم ابن عباس (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ کہ دانتوں کی دیت اور انگلیوں کی دیت دونوں برابر ہیں۔ ہر انگلی کی دیت اصل دیت کا دسواں حصہ ہے۔ اور ہر دانت کی دیت اصل دیت کا بیسواں حصہ ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔