أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ يَقُولُ: «فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ إِذَا فُقِئَتْ مِائَةُ دِينَارٍ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: لَيْسَ عِنْدَنَا فِيهَا أَرْشٌ مَعْلُومٌ، فَفِيهَا حُكُومَةُ عَدْلٍ، فَإِنْ بَلَغَتِ الْحُكُومَةُ مِائَةَ دِينَارٍ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، كَانَتِ الْحُكُومَةُ فِيهَا، وَإِنَّمَا نَضَعُ هَذَا مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ لأَنَّهُ حَكَمَ بِذَلِكَ
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں زید بن ثابت (رض) فرماتے تھے کہ جب آنکھ درست رہے لیکن بےنور ہوجائے تو اس کی دیت سو دینار ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارے ہاں اس کی دیت مقرر نہیں۔ اس میں نحاکم عادل کو اختیار ہے۔ خواہ وہ سود دینار کا حکم دے یا زیادہ کا فیصلہ نافذ ہوگا۔ ہم یہ مسئلہ زید بن ثابت (رض) کے فیصلہ سے اخذ کرتے ہیں۔