أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، نَشَدَ النَّاسَ بِمِنًى: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ فِي الدِّيَةِ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِ، فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ، فَقَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ: «أَنْ وَرِّثِ امْرَأَتَهُ مِنْ دِيَتِهِ» .
فَقَالَ عُمَرُ: ادْخُلِ الْخِبَاءَ حَتَّى آتِيَكَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ بِذَلِكَ، فَقَضَى بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لِكُلِّ وَارِثٍ فِي الدِّيَةِ وَالدَّمِ نَصِيبٌ، امْرَأَةً كَانَ الْوَارِثُ، أَوْ زَوْجًا، أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ.
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے منی کے مقام میں ان لوگوں کو بلایا جو کہ دیت کے مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں۔ تاکہ دیت کے متعلق وہ بتلائیں۔ ضحاک بن سفیان (رض) کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اشیم الضبابی کے متعلق تحریر فرمایا تھا کہ اس کی دیت میں اس کی ب یوی کو وراثت کا حصہ دلاؤ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم خیمہ میں جاؤ یہ ان تک کہ میں آجاؤں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) خیمہ میں تشریف لے گئے تو ضحاک بن سفیان (رض) نے انھیں بتلایا اور حضر عمر (رض) نے اس کے مطابق فیصل فرمایا ( اس روایت کو باب ما جاء فی میراث العقل و التغلیظ فیہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں کہ دیت اور خون بہاء میں تمام ورثاء کا حصہ ہے۔ وہ وارث شوہر ہو یا بیوی یا ان کے علاوہ اور کوئی وارث ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔