أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اسْتَبَّتَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِغُرَّةِ عَبْدٍ، أَوْ وَلِيدَةٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا ضُرِبَ بَطْنُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ، فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا، فَفِيهِ غُرَّةُ عَبْدٍ، أَوْ أَمَةٍ، أَوْ خَمْسُونَ دِينَارًا، أَوْ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ نِصْفُ عُشْرِ الدِّيَةِ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الإِبِلِ أُخِذَ مِنْهُ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْغَنَمِ أُخِذَ مِنْهُ مِائَةٌ مِنَ الشَّاةِ نِصْفُ عُشْرِ الدِّيَةِ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں باہم جھگڑا کیا۔ ایک نے دوسرے کو پتھر دے مارا۔ اس کے پیٹ سے بچہ نکل کیا ( حمل گرگیا) تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غلام یا لونڈی دیت میں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا ( ان دونوں آثار کو امام مالک نے باب عقل الجنین میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس کو اختیار کرتے ہیں کہ اگر کسی نے آزاد عورت کے پیٹ پر ضرب لگائی اور اس سے مردہ بچہ ساقط ہو کیا تو اس کو ایک غلام یا لونڈی یا پچاس دینار یا پاننچ سو درہم دیت ادا کرنا ہو کی یہ دیت کا بیسوان حصہ ہے۔ اگر اونٹ کا مالک ہے تو اس سے پانچ اونٹ لیے جائیں گے اور اکر بکریوں والا ہے تو اس سے سو بکریاں لی جائیں گی۔ یہ دیت کا بیسواں حصہ ہے۔